نئی دہلی،20/جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سون بھدر قتل عام کو لے کر کانگریس نے یوپی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔کانگریس نے یوپی حکومت پر ملزمان کا ساتھ دینے کی بات کہی ہے۔پارٹی کے مرکزی ترجمان رندیپ سرجیوالا نے بتایا کہ سون بھدر کا قتل عام ملک کے غریب اور کسان کے خلاف ہے۔یہ قتل عام انتظامیہ کے زیر انتظام مانا جائے گا انہوں نے کہا کہ متاثرین کو انصاف دینے کے بجائے اجے سنگھ عرف آدتیہ ناتھ کی حکومت اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف کھڑی ہے۔رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ پرینکا گاندھی کا قصور اتنا ہی ہے کہ وہ متاثرین سے ملنا اور ان کا آنسو پوچھنا چاہتی تھیں۔سرجیوالا نے کہا کہ متاثرہ قبائلیوں کے گاؤں اوبھا کو پولیس چھاؤنی بنا دیا گیا ہے۔کسی کے بھی آنے جانے پر روک لگا دی گئی ہے۔کیا وہاں دہشت گرد اور انتہا پسند ہیں؟آدتیہ ناتھ حکومت نے 19 اکتوبر 2017 کو قبائلیوں کی زمین کو اہم ملزم کے نام کر دی۔یوگی حکومت قبائلیوں کی زمین پر قبضہ کروانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی کسان کے خلاف کئی ایف آئی آر درج کی گئیں۔قبائلیوں نے ضلع مجسٹریٹ کے پاس درخواست دی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ یہ آدتیہ ناتھ حکومت کی سازش نہیں تو کیا ہے؟۔سچائی یہ ہے کہ آدتیہ ناتھ حکومت مجرموں کو تحفظ دے رہی ہے۔وہ سون بھدر میں مجرموں کے ساتھ کھڑی ہے۔ہم قتل عام کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔سرجیوالا نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا پورے سون بھدر کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر کے سچ کودبا پائے گی آدتیہ ناتھ حکومت؟ بی جے پی حکومت کو پرینکا گاندھی سے ڈر کیوں لگتا ہے؟غور طلب ہے کہ پرینکا کو جمعہ کو سون بھدر جانے سے انتظامیہ نے روک دیا تھا۔وہ بدھ کو ہوئے اس اجتماعی قتل کے متاثرہ خاندانوں سے ملنے جا رہی تھیں۔پرینکا انتظامیہ کے اس اقدام کی مخالفت میں دھرنے پر بیٹھ گئی تھیں۔بعد میں انہیں چنار گیسٹ ہاؤس لے جایا گیا۔ہفتے کی صبح متاثرہ خاندانوں کے کچھ لوگ خود وہاں پہنچے اور پرینکا گاندھی سے ملے۔